علمی اختلاف اور ادب اختلاف

حافظ محمد اشرف کریمی 

خلاصہ

نویں صدی ہجری میں صحیح بخاری کی شرح نگاری اپنے عروج کو پہنچی۔ حافظ احمد بن علی ابن حجر عسقلانیؒ (م 852ھ) کی «فتح الباری» اور علامہ محمود بن احمد بدر الدین عینیؒ (م 855ھ) کی «عمدۃ القاری» اسی علمی ماحول کی دو نمائندہ تصانیف ہیں۔ علامہ عینی نے «فتح الباری» کے متعدد مقامات پر تعقب کیا تو حافظ ابن حجر نے «انتقاض الاعتراض فی الرد علی العینی فی شرح البخاری» میں ان اعتراضات کا مفصل جواب دیا۔ کئی صدیوں بعد شیخ عبد الرحمن بوصیریؒ (م 1354ھ/1935ء) نے «مبتكرات اللآلي والدرر في المحاكمة بين العيني وابن حجر» میں دونوں کے درمیان 343 محاکمات قائم کرکے کبھی ابن حجر، کبھی عینی اور کبھی تطبیق ورفعِ نزاع کو ترجیح دی۔ زیرِ نظر تحریراس سہ مرحلہ علمی مناقشے کو علمی نسبت، نقلِ عبارت، تراجم الابواب، لغت ونحو، فقہی قیاس، دلالتِ سیاق اور آدابِ نقد کے زاویوں سے دیکھتی ہے۔ مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ ابن حجر کا منہج عموماً اعتراض کی تعیین، اصل عبارت کی بازیافت اور دلیل سے نقض پر قائم ہے، عینی کی قوت فقہی و لغوی وسعت اور ربطِ ابواب میں نمایاں ہے، جبکہ بوصیری کی اصل خدمت دعوے کو محلِ نزاع تک محدود کرکے دونوں عبارتوں کا براہِ راست تقابل ہے۔ بوصیری کا محاکمہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ ہر مقام پر کسی ایک شارح کی کلی برتری ثابت نہیں ہوتی۔ نتیجتاً علمی اختلاف میں ماخذ کی براہِ راست مراجعت، مخالف کے کلام کی کامل نمائندگی، دعوے کے بقدر حکم، قابلِ جمع اقوال میں تطبیق اور منصفانہ زبان لازم ہیں۔

کلیدی الفاظ: ابن حجر عسقلانی، بدر الدین عینی، عبد الرحمن بوصیری، انتقاض الاعتراض، مبتكرات اللآلي والدرر، فتح الباری، عمدۃ القاری، ادبِ اختلاف، محاکمہ، شرحِ حدیث۔

Abstract

This article examines the scholarly exchange between Ibn Hajar al-ʿAsqalānī and Badr al-Dīn al-ʿAynī through Fatḥ al-Bārī, ʿUmdat al-Qārī, and Ibn Hajar’s Intiqāḍ al-Iʿtirāḍ, with special reference to ʿAbd al-Raḥmān al-Būṣīrī’s later adjudication, Mubtakarāt al-Laʾālī wa-al-Durar. Based on textually verified passages, it analyzes attribution of material, chapter-title correlations, linguistic argument, juristic analogy, contextual meaning, and the ethics of disagreement. Al-Būṣīrī’s 343 adjudications provide a third analytical voice: he supports Ibn Hajar in some cases, al-ʿAynī in others, and occasionally dissolves the dispute through reconciliation. The study concludes that no single commentator prevails in every field. It proposes a source-based model of disagreement grounded in complete quotation, direct verification, proportional judgment, reconciliation where possible, and respect for the opponent’s scholarly standing.

Keywords: Ibn Hajar al-ʿAsqalānī; Badr al-Dīn al-ʿAynī; ʿAbd al-Raḥmān al-Būṣīrī; Intiqāḍ al-Iʿtirāḍ; Mubtakarāt al-Laʾālī wa-al-Durar; ethics of disagreement.

تمہید

اسلامی علمی روایت میں اختلاف ہمیشہ علمی کمزوری کی علامت نہیں رہا؛ صحیح منہج، مضبوط دلیل اور دیانت دارانہ نقل کے ساتھ یہی اختلاف علوم کی تنقیح، اصطلاحات کی تحدید اور دلائل کی نئی درجہ بندی کا ذریعہ بنتا ہے۔ صحیح بخاری کی دو عظیم شروح، «فتح الباری» اور «عمدۃ القاری»، اس حقیقت کی روشن مثال ہیں۔ دونوں مصنف اپنے عہد کے ممتاز محدث، فقیہ، مؤرخ اور ادیب تھے، لیکن ان کی فقہی وابستگی، شرحی ترجیحات، مواد کی تنظیم اور استدلال کے انداز میں نمایاں فرق تھا۔ اسی فرق نے متعدد مقامات پر تعقب، جواب اور جواب الجواب کی صورت اختیار کی۔

حافظ ابن حجر نے اپنے رد میں «فتح الباری» کے لیے حرف «ح» اور علامہ عینی یا معترض کے لیے حرف «ع» مقرر کیا۔ کتاب کے آغاز میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا مقصد محض اعتراض کا بدلہ لینا نہیں، بلکہ ایسی نسبتوں اور علمی دعوؤں کا جائزہ لینا ہے جنہیں وہ درست نہیں سمجھتے تھے۔ (ابن حجر، 1993ء، ج 1، ص 10) اس لیے «انتقاض الاعتراض» کو صرف مناظرانہ ادب نہیں، بلکہ شرحِ حدیث کے مناہج کا تقابلی ماخذ سمجھنا چاہیے۔

تحریر کا بنیادی سوال

یہ ہے کہ ابن حجر اور عینی کے اختلاف میں علمی نقد اور شخصی حدت کی حدِ فاصل کہاں قائم ہوتی ہے؟ اس کے تحت تین ذیلی سوالات سامنے آتے ہیں: عینی کے اعتراضات کی نمایاں علمی نوعیت کیا تھی؟ ابن حجر نے ان کے جواب میں کون سی استدلالی تدابیر اختیار کیں؟ اور اس پورے مناقشے سے عصرِ حاضر کے محقق کے لیے ادبِ اختلاف کے کون سے عملی اصول اخذ ہوتے ہیں؟

تحقیق کا منہج وصفی، تحلیلی، تقابلی اور محاکماتی ہے۔ بنیادی متن کے طور پر حمدی بن عبد المجید سلفی اور صبحی بن جاسم سامرائی کی تحقیق سے شائع شدہ «انتقاض الاعتراض» کا دو جلدی نسخہ اور رائد بن صبری بن ابی علفہ کی تحقیق سے شائع شدہ «مبتكرات اللآلي والدرر» کا 1426ھ/2005ء کا نسخہ استعمال کیا گیا ہے۔ تمام عربی اقتباسات مطبوعہ متن سے جانچے گئے ہیں؛ غیرمصدقہ یا بالمعنی عبارت کو کسی مصنف کا لفظی اقتباس قرار نہیں دیا گیا۔ ہر منتخب مسئلے میں چار مراحل ملحوظ ہیں: عینی کا اعتراض، ابن حجر کا جواب، بوصیری کا محاکمہ اور تحریرنگار کا تجزیہ۔ اس ترتیب سے محض رد کی قوت نہیں بلکہ اصل محلِ نزاع، فریقین کے مشترک مقدمات اور قابلِ جمع احتمالات بھی سامنے آتے ہیں

دونوں شروح کا علمی مزاج

«فتح الباری» کا امتیاز طرقِ حدیث، رجال، علل، اختلافِ الفاظ، فقہی استنباط اور مشکل مقامات کے جامع حل میں ہے۔ «عمدۃ القاری» میں لغت، نحو، صرف، مناسبتِ ابواب، فقہِ حنفی کے دلائل اور مخالف فقہی آرا کے مناقشے کو خاص وسعت حاصل ہے۔ اس عمومی فرق کو کسی ایک شرح کی مطلق فضیلت اور دوسری کی مطلق کم تری میں تبدیل کرنا درست نہیں؛ دونوں کی قوت کے میدان الگ ہیں اور صحیح بخاری کی جامع تفہیم میں دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *